ابنا: عین اس وقت جب سارا عالم اسلام عالمی یوم قدس کے موقع پر ملت فلسطین کے ساتھ یکجہتی اور قدس شرف کی آزادی اور رہائی کے لئے اپنے عزم کا اظہار کررہا تھا، ملت فلسطین کی قیادت کے مدعی سرزمین فلسطین کو حتی 1967 کی بنیاد پر بھی تسلیم کرانے سے پیچھے ہٹ گئے اور واضح کردیا کہ قیادت کی آڑ وہ خیانت کررھے ہیں۔ اگرچہ ملت فلسطین کی پشت پر اصل خنجر اس دن گھونپ دیا گیا تھا جس دن پی ایل او کی قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کئے تھے، اس دن سے لیکر آج تک فلسطین کی نام نہاد قیادت نےغاصب صہیونی ریاست کے مفادات کو پورا کرنے کے بجز کوئی اور قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کے آزاد ملک کی تشکیل کے لئے کوششیں ختم کرنے کے لئےتیار ہیں۔ محمود عباس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صہیونی ریاست سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کروانے کی کوششوں سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔ محمود عباس نے کہا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بنانے سے ان کا مقصد امریکہ کا مقابلہ اور اسرائيل کو الگ تھلگ کرنا نہیں ہے۔ حقیقت امر یہ کہ محمود عباس اور ان کے چند ایک معاونین اور ان سے وابستہ چند خاندان اس وقت فلسطین کے انتظامی ڈھانچے کو اپنے اختیار میں لئے ہوئے ہیں اور قدس کی غاصب صہیونی ریاست کے نمائندے کے طور پر کام کررھے ہیں اور اس کے عوض صہیونی ریاست سے انہیں خاصی لمبی چوڑی مراعات مل رہی ہیں، لہذا وہ کوئی ایسا کام کرہی نہیں سکتے جس کے نتیجے میں ان کواور ان کے خاندان والوں کو جو مراعت مل رہی ہیں ان سے دستبردار ہوجائیں۔بعض حلقوں کی جانب سے محمود عباس کے اس قدام کو غیر متوقع اور تعجب آمیز قرار دیا جارہا ہے، حالانکہ ان کا ماضی ایسے غیر متوقع اقدامات اور فیصلوں سے بھرا پڑا ہے۔بہرحال وہ طبقہ جو محمود عباس اور فلسطین کے سازشی گروہ سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا، فلسطین ریاست کو اقوام متحدہ میں تسلیم کروانے سے دستبرادی کے اعلان کو تعجب آمیز اور غیر متوقع قرار دے رہا، ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حالات کا حقیقت پسندی سے جائزہ لے اوردیکھے کہ سازشی عناصر سرزمین فلسطین کے تعلق سے کیا گل کھلا رہے ہیں۔سازشی عناصر کے اقدامات اور فیصلوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات پور ے وثوق سے کہی جاسکتی ہے اگر ایران میں اسلامی انقلاب کی برکت سے مقبوضہ سرزمینوں میں تحریک انتفاضہ کی شکل میں فلسطینی قوم کے جوان میدان میں نہ آتے تو مصر، اردن، مراکش، سعودی عرب، کویت اور قطر پوری سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرچکے ہوتے اور کوئی فلسطین کا نام لیوا نہ ہوتا۔بہرحال عالم اسلام اور فلسطینی قوم، بغیر کسی شراکت اور تقسیم کے، مملکت فلسطین کی خواہاں ہےاوراس سے کم کی چیز پر راضی نہیں ہوگی لہذا محمود عباس کے اس اقدام کو ان لوگوں کے لئے ایک اور مناسب موقع قرار دیا جاسکتا ہے جو صرف اپنے مفادات کی خاطر اسلامی سرزمین پر، مسلمان اور یہودی، دو علیحدہ علیحدہ حکومتوں کی تشکیل پر راضی اور خوش ہیں۔البتہ یہ ان کی خوش فہمی ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کسی باضابطہ فلسطینی حکومت کو تسلیم کرلے گی وہ اپنی سرحدوں میں تو دور کی بات ہے پڑوس میں کسی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی کہ جو مستقل اور مضبوط ہو چنانچہ مصر لبنان اردن ، مراکش اور آس پاس کے دیگر ممالک کا حال سب کے سامنے ہے کہ کس طرح ان ملکوں پر صہیونی ریاست کا رعب و دبدبہ تھا۔البتہ حالات نے جس اندز میں پلٹا کھایا ہے اس سے صہیونی ریاست پر سخت مایوسی چھائی ہوئی ہے اور یہ علاقے کی وابستہ اور پٹھو حکومتوں اور حکمرانوں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا مناسب موقع ہے وہ پلٹ آئیں اور اس سے زیادہ امریکہ اور صہیونی ریاست کی خدمت کرکے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ نہ کریں۔فلسطینی قیادت اور عوام کے لئے القدس کی عالمی ریلیوں کا واضح پیغام یہ کہ وہ بیت المقدس کے دارالحکومت کے ساتھ پوری سرزمین فلسطین پر حاکمیت سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوں اور مٹھی بھر صہیونیوں کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اپنا کوئی فیصلہ ان پر مسلط کریں اور یاد رکھیں اس سارے قضیئے میں امریکہ اور مغرب کا کردار ہرگز غیر جاندارانہ نہیں ہے۔ امریکی ثالثی کا مطلب ہی غاصب صہیونی ریاست کے تسلط کو تسلیم کرنا ہے۔القدس ریلیوں کا ایک اور واضح پیغام یہ کہ دشمن اور ان کے ایجنٹ جو جی میں آئیں کرلیں فلسطنی قوم اور مسلمانان عالم نے قدس شریف کی آزادی اور اسے مسلم امہ کی آغوش میں لوٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کام میں کسی بھی رکاؤٹ کوبرداشت نہیں کریگی۔بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ کے فرمان کے مطابق قدس مسلمانوں کاہے اور اسے مسمانوں کو واپس ملنا چاہیے۔ .............
/169